اہل یت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کرد پیشمرگہ ملیشیا اور داعش دہشتگردوں کے درمیان اتوار کو شہر موصل کے اطراف میں ہونے والی شدید جھڑپوں میں بڑی تعداد میں دہشتگرد ہلاک مارے گئے ہیں۔ پیشمرگہ کے کمانڈر زریان شیخ وسانی نے بتایا ہے کہ ان جھڑپوں کے دوران بڑی مقدار میں دہشت گردوں کے ہتھیار بھی پیشمرگہ ملیشیا کے ہاتھ لگے ہیں۔ پیشمرگہ نے داعش کے چار ایسے دہشتگردوں کی بھی شناخت کی ہے جو اس کی فرنٹ لائن میں گھس کر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ داعش دہشتگردوں نے گذشتہ دنوں میں جنوب مشرقی موصل کے سلطان عبداللہ ، تل الشعیر، النصر، اور تل الرحیم سمیت کچھ عرب آبادی والے دیہاتوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا۔ پیشمرگہ نے اتوار کے دن ہونے والی جھڑپوں میں تل الرحیم کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق عراقی وزيراعظم حیدرالعبادی نے نائب صدر نوری المالکی سے ملاقات کرکے ملک اور علاقے کے تازہ ترین سیاسی، عسکری اور سیکورٹی حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حکومت کے پروگرام، سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں، سیکورٹی کی صورت حال، داعش کے خلاف فوج کی کاروائيوں اور فوج کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لیاگیا۔ حیدرالعبادی کے برسراقتدار آنے کے بعد نائب صدر نوری مالکی سے یہ ان کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲